Archive for December, 2008

Urdu Poetry From Bhai’s Page

مجھے جو کچھ بھی لکھنا تھا
ابھی میں لکھ نہیں پایا

میری تحری کی زر میں
ابھی تو کچھ نہیں آیا

ابھی وہ درد لکھنا ہے
جو آنسو خون کے لائے

ابھی رسوائی لکھنی ہے
جو ہمراہ ”سنگ “بھی لائے

ابھی وہ نیند لکھنی ہے
جو سولی پر بھی نہ آئے

ابھی وہ شام لکھنی ہے
جسے کوئی چرا لائے

ابھی وہ شوخی لکھنی ہے
گلابی گال کر جائے

ابھی دو پل بھی لکھنے ہیں
جو تیرے سنگ تھے بتائے

ابھی وہ لوگ لکھنے ہیں
جو مجھکو کھو کر بچھتائے

ابھی وہ شخص لکھنا ہے
جو مجھکو کھوج کر لائے

مجھے وہ سب ہی لکھنا ہے
جو تم سے کہہ نہں پایا

مجھے وہ سب ہی لکھنا ہے
جو کوئی سہہ نہیں پایا

مجھے وہ سب ہی لکھنا ہے
کہ تیری آنکھ بھر آئے

بتائو کیا لکھیں پھر ہم؟
جو تیرے من کو بھا جائے

چلو کچھ بھی نہیں لکھتے
کہ تیرا بھرم رہ جائے!!

Leave a Comment